Sad
mohabbat se nahi
محبت سے نہیں مجھ کو جدائی سے ڈر لگتا ہے
میں ٹوٹا ہوا ہوں، مجھے تنہائی سے ڈر لگتا ہے
میں خود کو جو پڑھنے لگوں بکھرا ہوا پاتا ہوں
مجھے اپنے ہی اندر کی تنہائی سے ڈر لگتا ہے
یہ دنیا جو کہتی ہے سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے
مجھے اس کی دکھاوے کی بھلائی سے ڈر لگتا ہے
جو سچ بول دے شہر میں وہ تنہا ہی رہتا ہے
مجھے سچ کی ہر ایک رسوائی سے ڈر لگتا ہے
نہ حاصل کی خواہش ہے، نہ کھونے کا کوئی غم
مجھے زیست کی بڑھتی نارسائی سے ڈر لگتا ہے
میں آئینہ ہوں، مگر کون دیکھے گا خود کو اس میں
مجھے لوگوں کی اندھی خودنمائی سے ڈر لگتا ہے
غالبؔ میں سوالوں کے سناٹے میں کھو جاتا ہوں
مجھے اپنے وجود کی گہرائی سے ڈر لگتا ہے
میں ٹوٹا ہوا ہوں، مجھے تنہائی سے ڈر لگتا ہے
میں خود کو جو پڑھنے لگوں بکھرا ہوا پاتا ہوں
مجھے اپنے ہی اندر کی تنہائی سے ڈر لگتا ہے
یہ دنیا جو کہتی ہے سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے
مجھے اس کی دکھاوے کی بھلائی سے ڈر لگتا ہے
جو سچ بول دے شہر میں وہ تنہا ہی رہتا ہے
مجھے سچ کی ہر ایک رسوائی سے ڈر لگتا ہے
نہ حاصل کی خواہش ہے، نہ کھونے کا کوئی غم
مجھے زیست کی بڑھتی نارسائی سے ڈر لگتا ہے
میں آئینہ ہوں، مگر کون دیکھے گا خود کو اس میں
مجھے لوگوں کی اندھی خودنمائی سے ڈر لگتا ہے
غالبؔ میں سوالوں کے سناٹے میں کھو جاتا ہوں
مجھے اپنے وجود کی گہرائی سے ڈر لگتا ہے
Featured Image
Ghalib Ali
Ghalib Ali is a contemporary Urdu poet who writes about love, loss, and the human experience. His poetry blends classica
View All Poems