mohabbat se nahi
محبت سے نہیں مجھ کو جدائی سے ڈر لگتا ہے
میں ٹوٹا ہوا ہوں، مجھے تنہائی سے ڈر لگتا ہے
میں خود کو جو پڑھنے لگوں بکھرا ہوا پاتا ہوں
مجھے اپنے ہی اندر کی تنہائی سے ڈر لگتا ہے
یہ دنیا جو کہتی ہے سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے
مجھے اس کی دکھاوے کی بھلائی سے ڈر لگتا ہے
جو سچ بول دے شہر میں وہ تنہا ہی رہتا ہے
مجھے سچ کی ہر ایک رسوائی سے ڈر لگتا ہے
نہ حاصل کی خواہش ہے، نہ کھونے کا کوئی غم
مجھے زیست کی بڑھتی نارسائی سے ڈر لگتا ہے
میں آئینہ ہوں، مگر کون دیکھے گا خود کو اس میں
مجھے لوگوں کی اندھی خودنمائی سے ڈر لگتا ہے
غالبؔ میں سوالوں کے سناٹے میں کھو جاتا ہوں
مجھے اپنے وجود کی گہرائی سے ڈر لگتا ہے
dil ki deewaar par uska naam bhi na rehne de
دل کی دیوار پر اُس کا نام بھی نہ رہنے دے
جو گیا ہے چھوڑ کر کوئی پیغام بھی نہ رہنے دے
خواب بن کر آیا تھا درد دے کر چلا گیا
اب اُس کی یاد میں کوئی انجام بھی نہ رہنے دے
کیا ملا ہے اُسے تیری چاہتوں کا صلہ
ایسے بے مہر کو تُو سلام بھی نہ رہنے دے
خود کو یوں بےقدر نہ کر، سنبھل جا اب
جو نہ تھا نصیب میں اُس کا کلام بھی نہ رہنے دے
ہر نظر اُس راہ پر کیوں ٹھہرتی ہے
جو پلٹ کر نہ آئے، وہ مقام بھی نہ رہنے دے
غالب درد کو لفظوں میں ڈھال کر جی لے
لیکن دل میں اُس کا قیام بھی نہ رہنے دے
apne-kam-se-kam
میں اپنے کام سے کام رکھتا ہوں
ہوں بُرا یہ بھی الزام رکھتا ہوں
میں نے لوگوں کے سب انداز پہچانے
ہر نظر میں چھپا اک انجام رکھتا ہوں
لوگ کہتے ہیں میں جدا ہوں سب سے
اپنے اندر ہی اک مقام رکھتا ہوں
یہ زمانہ ہے جھوٹ کا دریا
سچ کو دل میں ہی تھام رکھتا ہوں
سب کو خوش رکھنے کی نہیں خواہش
میں فقط اپنا احترام رکھتا ہوں
دوستی بھی یہاں تجارت ہے
میں تعلق میں کم ہی دام رکھتا ہوں
کوئی سمجھے یا پھر نہ سمجھے مجھے
میں خیالوں کا اک نظام رکھتا ہوں
دھوکہ کھا کے بھی مسکرا دیتا ہوں
دل میں اک دھندلا سا پیام رکھتا ہوں
مت آیا کرو یوں مرے روبرو ہر شام کے بعد
مت آیا کرو یوں مرے روبرو ہر شام کے بعد
دل سنبھلتا ہی نہیں ایک ترے نام کے بعد
تمہاری صدا میں عجب اک نشہ سا گھلا رہتا ہے
جیسے کوئی ساز بجے خامشی کے مقام کے بعد
یہ آنکھیں کہ جیسے مئے ناب چھلک اٹھی ہو
میں ہوش میں کیسے رہوں ایسے جام کے بعد
زلفیں تمہاری گھٹا بن کے رخ پر یوں ٹھہریں
چاند بھی چھپنے لگے حسنِ تمام کے بعد
تمہارا چہرہ مہتاب، تبسم پہلی بارش
دل کیوں نہ بہک جائے تیرے کلام کے بعد
اسی لیے کہتا ہوں مت آیا کرو اتنا قریب
کہ عادت نہ بن جاؤ تم ایک سلام کے بعد
غالبؔ تم سامنے آ جاؤ تو یہ عالم ہو پھر
کوئی خواہش نہ رہے اور کسی کام کے بعد
Aaj is qadar josh-e-shiddat se tujhe yaad kiya
آج اس قدر جوشِ شدت سے تجھے یاد کیا
روتے روتے دلِ بےتاب کو برباد کیا
تیری تصویر کو چوما، تجھے محسوس کیا
پھر وہی دردِ جدائی نے ہمیں یاد کیا
خواب میں آیا تیرا چہرہ تو آنکھیں نم تھیں
جاگ کر دل نے بہت تجھ کو فریاد کیا
تیری آواز کے لہجے میں سکونِ دل تھا
اب وہی خامشی دل پر بھی اثرزاد کیا
اِک تیری یاد کے سہارے ہی گزارا کیسا
زندگی نے بھی ہمیں درد کا استاد کیا
چاند دیکھا تو تیرے چہرے کا پرتو چھایا
رات بھر دل نے تیری بات کو آباد کیا